ہفتہ 24 جنوری 2026 - 12:29
ماہِ شعبان؛ کربلا والوں کا مہینہ

حوزہ/رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث شریف ہے کہ "شعبان میرا مہینہ ہے۔" لیکن اگر غور کیا جائے تو اس ماہ میں نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ہے، نہ شہادت ہے اور نہ ہی آپ کی بعثت ہے تو آخر حضور نے کیوں فرمایا کہ یہ میرا مہینہ ہے؟

تحریر و ترتیب: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی| رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث شریف ہے کہ "شعبان میرا مہینہ ہے۔" لیکن اگر غور کیا جائے تو اس ماہ میں نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ہے، نہ شہادت ہے اور نہ ہی آپ کی بعثت ہے تو آخر حضور نے کیوں فرمایا کہ یہ میرا مہینہ ہے؟

جب ہم اس حدیث شریف پر غور کریں گے تو دوسری مشہور حدیث "حُسَينُ مِنِّي وَاَنَا مِنَ الْحُسَين" (حسین علیہ السلام مجھ سے ہیں اور میں حسین علیہ السلام سے ہوں) کے دوسرے حصہ نے فہم حدیث میں مدد کی کہ اگرچہ ماہ شعبان میں نہ حضور کی تاریخ ولادت ہے اور نہ تاریخ شہادت ہے اور نہ ہی تاریخ بعثت ہے۔ لیکن چونکہ اس ماہ میں امام حسین علیہ السلام اور ان کے انقلابِ کربلا کے اہم اراکین و افراد پیدا ہوئے ہیں اور ان ہی ذوات مقدسہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کی ترویج و تبلیغ اور تحفظ و بقا میں اپنی جانیں قربان کی ہیں۔

لہٰذا ماہِ شعبان وہ مہینہ نہیں جسے وقت کے اوراق میں خاموشی سے پلٹ دیا جائے، بلکہ یہ وہ مہینہ ہے جو تاریخ کو جھنجھوڑتا ہے، ضمیر کو بیدار کرتا ہے اور انسان کو اس کے اصل مقصد سے روشناس کراتا ہے۔ یہ مہینہ دراصل کربلا کا مقدمہ، کربلا کا تعارف اور کربلا کا تسلسل ہے۔ اگر محرم کربلا کی گریہ آلود صدا ہے تو شعبان کربلا کی مسکراتی ہوئی روشنی ہے۔ اگر عاشورا قربانی کا دن ہے تو شعبان قربانی کی تیاری کا مہینہ ہے۔ اسی لئے اہلِ بصیرت نے بجا طور پر کہا: ماہِ شعبان، کربلا والوں کا مہینہ ہے۔

یہ مہینہ ان ہستیوں کی ولادتوں سے منور ہے جنہوں نے کربلا میں تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ یہ وہ سورج ہیں جن کی روشنی میں انسانیت نے ظلم اور عدل کے درمیان فرق کرنا سیکھا۔

پہلی شعبان — ولادتِ حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا: شعورِ کربلا

ماہِ شعبان کا آغاز حضرت زینبِ کبریٰ سلام اللہ علیہا کی ولادت سے ہوتا ہے۔ گویا خدا نے پہلے ہی دن یہ اعلان کر دیا کہ کربلا صرف تلوار سے نہیں، زبان اور شعور سے بھی زندہ رہے گی۔ زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا وہ ہستی ہیں جن کے بغیر کربلا ایک دفن شدہ تاریخ بن سکتی تھی، مگر آپ کے خطبات نے کربلا کو زمان و مکان کی قید سے آزاد کر دیا۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی سیرت ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حق اگر بول نہ سکے تو مر جاتا ہے اور اگر مظلوم خاموش ہو جائے تو ظالم تاریخ لکھ لیتا ہے۔ کربلا میں امام حسین علیہ السلام نے دین کو بچایا اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے دین کو پہچنوایا۔

تیسری شعبان — ولادتِ امام حسین علیہ السلام: روحِ کربلا

تیسری شعبان وہ دن ہے جب کائنات نے آزادی کی سانس لی، کیونکہ امام حسین علیہ السلام پیدا ہوئے۔ امام حسین علیہ السلام کی ولادت دراصل اک اعلان تھی کہ اسلام کو جبر کے ہاتھوں یرغمال نہیں بنایا جا سکتا۔ امام حسین علیہ السلام نے ابھی آنکھ نہ کھولی تھی مگر وقت جانتا تھا کہ ایک دن یہی آنکھیں امت کی غفلت پر اشک بھی بہائیں گی اور حق کے لئے خون بھی۔

کربلا امام حسین علیہ السلام کے بغیر ممکن نہیں اور کربلا کے بغیر اسلام و انسانیت کا تحفظ ممکن نہیں تھا۔ تیسری شعبان یاد دلاتی ہے کہ امام حسین علیہ السلام صرف ایک فرد نہیں، بلکہ ایک معیار ہیں—حق کا معیار۔

چوتھی شعبان — ولادتِ حضرت عباسؑ: وفا کی معراج

چوتھی شعبان علمدارِ کربلا، حضرت عباس بن علی علیہ السلام کی ولادت کا دن ہے۔ عباسؑ وہ نام ہے جس نے وفا کو مکمل معنی عطا کیا۔ کربلا میں عباسؑ نے بتایا کہ وفاداری جذبات کا نام نہیں ہے بلکہ اطاعت، قربانی اور اپنی ذات کو امام وقت کے فرمان پر قربان کر دینے کا نام ہے۔

فرات کے کنارے حضرت عباسؑ کا رک جانا انسانیت کو یہ سبق دیتا ہے کہ اصل پیاس پانی کی نہیں، بلکہ وفا کی ہوتی ہے۔ دریا سے حصولِ آب کمال نہیں بلکہ اطاعت مولا میں حصول تشنگی کمال ہے۔ حضرت عباس علیہ السلام کی سیرت ہمیں سکھاتی ہے کہ اگرچہ امام وقت کا مطیع محض ہونا آسان نہیں، مگر نجات کا واحد راستہ یہی ہے۔

پانچویں شعبان — ولادتِ امام زین العابدینؑ: صبر کی زبان

پانچویں شعبان امام زین العابدین علیہ السلام کی ولادت کا دن ہے، وہ امام جنہوں نے زخموں کے ساتھ زندگی کو گلے لگایا اور عبادت کے ذریعہ امت کو دوبارہ زندہ کیا۔ اگر امام حسین علیہ السلام نے اپنے خون سے تعمیر کربلا فرمائی تو امام سجاد علیہ السلام نے اپنے اشکوں سے کربلا کو تحفظ و بقا عطا کی۔

کربلا کے بعد اگر اسلام باقی ہے تو سید سجاد علیہ السلام کے سجدوں کی بدولت ہے۔ آپ نے رہتی دنیا تک انسانیت کو بتایا کہ ہر معرکہ تلوار سے نہیں لڑا جاتا، کچھ جنگیں صبر سے جیتی جاتی ہیں۔

نویں شعبان — ولادتِ حضرت قاسم علیہ السلام: جوانی کا امتحان

نویں شعبان حضرت قاسم بن حسن علیہ السلام کی ولادت ہے۔ وہ نوجوان جس سے کربلا میں معمار کربلا نے پوچھا: تمہارے نزدیک موت کیسی ہے؟ تو حضرت قاسم علیہ السلام نے جواب دیا: "میرے نزدیک موت شہد سے زیادہ شیریں ہے۔"

حضرت قاسم علیہ السلام کی سیرت نے پیغام دیا کہ کربلا میں عمر نہیں پوچھی گئی، ایمان دیکھا گیا۔ نوجوانی اگر حسینؑ کے قدموں میں آ جائے تو وہ تاریخ بن جاتی ہے۔

گیارہویں شعبان — ولادتِ حضرت علی اکبرؑ: نبوی جوانی

گیارہویں شعبان حضرت علی اکبر علیہ السلام کی ولادت ہے۔ وہ جوان جو چہرے میں رسولؐ، کردار میں رسولؐ اور آواز میں رسولؐ تھے۔ کربلا میں جب علی اکبر علیہ السلام میدان میں گئے تو دشمن نے کہا: “یہ تو محمدؐ جیسا ہے!”

علی اکبرؑ کی شہادت نے ثابت کیا کہ حسینؑ نے صرف بوڑھے نہیں، جوان بھی قربان کئے—اور یہی کربلا کی عظمت ہے۔

پندرہویں شعبان — ولادتِ امام مہدی علیہ السلام: کربلا کا مستقبل

اور پھر پندرہویں شعبان… امید کی رات، انتظار کی صبح۔ حضرت امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کی ولادت وہ وعدہ ہے جو کربلا نے انسانیت سے کیا تھا۔ اگر حسینؑ نے ظلم کو بے نقاب کیا تو مہدی علیہ السلام ظلم کو مٹائیں گے۔ اگر کربلا مظلومیت کا عروج تھی تو ظہور عدل کا کمال ہو گا۔

نیمۂ شعبان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کربلا ختم نہیں ہوئی، وہ انتظار میں سانس لے رہی ہے۔

یوں ماہِ شعبان ہمیں کربلا کی مکمل تفسیر عطا کرتا ہے: زینبؑ کا شعور، حسینؑ کی قربانی، عباسؑ کی وفا، سجادؑ کی عبادت، قاسمؑ کی جوانمردی، علی اکبرؑ کی شجاعت اور حضرت مہدیؑ کا عدل۔

یہ مہینہ ماہ اعیاد ہے، ماہ مسرت ہے، البتہ جہاں یہ دعوت سرور دیتا ہے وہیں ذمہ داری کا احساس بھی دلاتا ہے۔ یہ ہمیں رونے کے ساتھ سوچنا سکھاتا ہے اور انتظار کے ساتھ کردار بنانا سکھاتا ہے۔

واقعی، ماہِ شعبان کربلا والوں کا مہینہ ہے—اور کربلا والوں کے راستے کے سوا کوئی راستہ نجات کا نہیں ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha